غزل (پیاس کے عالم میں کیا بولوں مجھ کو کیسا لگتا ہے)

April 21, 2007 on 10:55 am | In TumhaiN Mausam Bulaatay HaiN |

پیاس کے عالم میں کیا بولوں مجھ کو کیسا لگتا ہے
اک قطرہ بھی اس دم عاطفؔ دریا جیسا لگتا ہے

سُوکھے پتوں کی آہٹ اب بھی مجھ کو چونکاتی ہے
یاد ہے مجھ کو اُن پر چلنا تم کو اچھا لگتا ہے

میں تو اپنے آپ کو اکثر یہ سمجھاتا رہتا ہوں
تو سب کچھ ہے پھر بھی آخر تو میرا کیا لگتا ہے

اتنی مدت سے آنکھوں میں خواب نہیں اترا کوئی
کہ اب سپنا بھی دیکھوں تو مجھ کو سپنا لگتا ہے

تم کیا میرے پیار کی شدت پیمانوں سے ناپو گے
پیار میں جتنا بھی کرتا ہوں مجھ کو تھوڑا لگتا ہے

اپنی آنکھوں میں خوابوں کو لوگ سجائے بیٹھے ہیں
خوابوں کا سوداگر پھر سے شہر میں آیا لگتا ہے

دل کے بہلانے کو سب سے کہتا ہوں تنہا خوش ہوں
سچ پوچھو تو تنہا رہنا کس کو اچھا لگتا ہے

پلکوں کی باڑھوں پہ جو تم اشک سجائے بیٹھے ہو
دل میں یادوں کا پھر کوئی جھونکا آیا لگتا ہے

جیسے بھیڑ میں بچہ کوئی گم ہو جاتا ہے عاطفؔ
تم جب ساتھ نہیں ہوتے ہو مجھ کو ایسا لگتا ہے

4 Comments »

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

  1. this ghazal is really awesome .this is wah kind of ghazal

    Comment by ayesha — April 21, 2007 #

  2. UR ALL POETRYS ARE RELY V.V.V.V.V NICE

    Comment by Ali — June 1, 2007 #

  3. جیسے بھیڑ میں بچہ کوئی گم ہو جاتا ہے عاطفؔ
    تم جب ساتھ نہیں ہوتے ہو مجھ کو ایسا لگتا ہے
    kia baat hai waah waah waah waahhh zabardasttttttttttttttttttttt u r great this ghazal is really awesome

    Comment by usman abid — April 17, 2008 #

  4. bhot khoob..

    Comment by fatima — September 4, 2008 #

Leave a comment

XHTML: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <code> <em> <i> <strike> <strong>

Presentation of Urdu Poetry Forum - Get RSS Feed: Entries and comments feeds. ^Top^